بنگلورو۔ 2نومبر (ایس او نیوز) بی جے پی اور دیگر دائیں بازو کی تنظیموں نے 10نومبر کو اس وقت کی میسور ریاست کے 19ویں صدی کے مسلم حکمران ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش تقریب منانے حکومت کے اقدام کے خلاف احتجاج کا آغاز کیا۔ بی جے پی ' سنگھ پریوار اور دیگر تنظیمیں ٹیپو سلطان کی جینتی تقاریب منانے کی مخالفت کررہی ہیں جن کا الزام ہے کہ مسلم حکمران مخالف ملک تھے اور انہوں نے زبردستی طور پر مذہب تبدیل کروایا تھا،تاہم ریاستی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ ان تقاریب کا اہتمام کرے گی کیوں کہ ٹیپو سلطان محب وطن تھے اور وہ ان لوگوں میں پہلے تھے، جنہو ں نے برطانوی حکمرانی کے خلاف لڑائی لڑی تھی۔پولیس نے فلم اداکار سے سیاست دان بننے والی تاراانورادھا کی زیر قیادت بی جے پی کے ارکان کو اس وقت روک دیا جب وہ چترادرگ میں احتجاج کررہے تھے۔ مورخین کا کہنا ہے کہ 18ویں صدی میں چترادرگ کے تاریخی ٹاون کے ہندو بادشاہ چترادرگ کے محافظ کی بیوی اونیک اوباوا نے ٹیپوسلطان کے والد حیدرعلی کے سا تھ جنگ لڑی تھی۔ دوسرے سال بھی ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش تقریب منانے حکومت کے فیصلہ پر ملاجلاردعمل سا منے آیا ہے۔دائیں بازو کی تنظیموں نے ایسے شخص کی تقریب منانے حکومت کے اقدام کے خلاف احتجاج کیا انہوں نے الزام لگایاکہ ٹیپو سلطان نے ہندووں اور عیسائیوں کا مذہب تبدیل کروایا۔ اس سے گذشتہ سال تصادم کے واقعات پیش آئے تھے۔ رکن قانون ساز کونسل تارا انورادھا اور بی جے پی کے کارکنوں کی کثیر تعداد کو فورک ٹاون کے باب الداخلہ پر روک دیا گیا اور پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ اسی دوران کرناٹک کے دیگر بعض حصوں سے بھی احتجاج کی اطلاعات ملی ہیں۔کوڈاگو میں گذشتہ سال اسی تقریب میں احتجاج کے دوران دو اموات ہوئی تھیں۔ احتجاجیوں نے ٹیپو کی جینتی منانے کے خلاف نعرے لگائے اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس تقریب کو منسوخ کردے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ٹیپو سلطان کے حامیوں نے کافی کے اس ضلع میں لوگوں کو زبردستی طور پر مذہب تبدیل کروایا۔ اڈوپی میں بھی ایسا ہی احتجاج دیکھا گیا۔اڈوپی بی جے پی ضلع یونٹ کے صدر متھاررتناکر کی قیادت میں جلوس نکالاگیا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ قومی ہیرو جیسے کتوررانی چنما، ان کے کمانڈر انچیف مداکری نائک ' رانی ابکا دیوی ' اوناکے اوباوا کی تقاریب کا اہتمام کرے اور ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش تقریب نہ منائی جائے۔ کرناٹک حکومت نے بی جے پی اور اس کی نظریہ ساز تنظیم آر ایس ایس کی مخالفت کے باوجود اس سال 10نومبر کو اٹھارہویں صدی کے میسور کے حکمران ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش تقریب منانے کا فیصلہ کیا۔کنڑا اور ثقافتی محکمہ کی جانب سے اس تقریب پر 69لاکھ روپے صرف کئے جائیں گے اور تمام اضلاع کے مقامی انتظامیہ کوسرکلر بھیج دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سدارامیا نے تاہم کہا کہ اس سال بھی یہ تقاریب منعقد کی جائیں گی اور حکومت لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر نظر رکھے گی۔ اسی دوران اس تقریب کو منانے سے حکومت کو روکنے کی ہدایت دینے کی خواہش کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی داخل کی گئی۔
ٹیپو سلطان کی جینتی تقاریب روکنے کی کوشش کے خلاف وزیر داخلہ کا انتباہ
شموگہ۔ 2 نومبر (ایس او نیوز) وزیر داخلہ جی پرمیشور نے ان اشرار کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا جو ٹیپو سلطان کی جینتی تقاریب کے دوران امن و امان میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔یہ انتباہ بی جے پی کی ریاستی یونٹ کے اس اعلان کے بعد آیا ہے کہ ٹیپو سلطان کی جینتی کے پروگرام کے خلاف 8نومبر کو ریاست بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔پرمیشور نے کہا کہ اختلاف رائے اور احتجاج جمہوری نظام میں عام بات ہے،لیکن ریاستی حکومت 10نومبر کو ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش کی تقریب منانے کے اپنے منصوبے میں پیش رفت کرے گی۔ ان تقاریب کے دوران امن میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوششوں میں ملوث افراد یا تنظیموں کے خلاف قانون اپنا کام کرے گا۔انہو ں نے شموگہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ آر ایس ایس کے جہد کار ردریش کے قتل کے الزامات پر گرفتار افراد سے مبینہ تعلقات پر سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی کی خواہش کرتے ہوئے بی جے پی کی ریاستی یونٹ کی جانب سے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کے منصوبے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بات ثابت ہونے پر ہی کسی تنظیم پر پابندی پر غور کرے گی۔پولیس ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کے لئے راگھویندرا اورادکر پینل کی سفارشات پر انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت نے اس مسئلہ پر محکمہ فائنانس اور داخلہ کے سینئر افسروں سے رائے مانگی ہے۔